ابنا: اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے آج تہران ميں، گذشتہ سال کے صدارتی انتخابات میں ایرانی عوام کے سیاسی کارنامے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال کے 14 جون کا پیغام یہ تھا کہ ملت ایران نے اعتدال ، امن و دوستی ، آشتی ، دنیا کے ساتھ مفاہمت اور بات چیت نیز متوازن و پائیدار راہ کا انتخاب کیا ہے اور یہی راستہ ملت ایران کا دائمی راستہ ہوگا ۔ ڈاکٹر روحانی نے اسی طرح ایک عیسائی پادری کے توسط سے امریکی صدر کی جانب سے ارسال کردہ ایک پیغام کے بارے ميں کہا کہ اگر پیغام کا رد و بدل ہونا ہوگا تو ان کے ارسال کئے ہوئے خط کا جواب بھی روانہ کیا جائے گا ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدرنے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ کی مذکراتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ایران کے ایٹمی مذاکرات کار، گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ رابطے میں ہیں کہا کہ کسی بھی عیسائی پادری کے توسط سے نہ ہی کوئی پیغام موصول ہوا ہے اور نہ ہی کوئی پیغام امریکی صدر کو بھیجا گیا ہے ۔ صدر مملکت نے گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ جاری مذاکرات میں کسی امکانی سمجھوتے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران مذاکرات میں سنجیدہ ہے اور اگر فریق مقابل بھی نیک نیتی رکھتا ہو تو پھر سمجھوتہ ہونا یقینی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ہفتے جو مذاکرات شروع ہورہے ہیں امکان ہے کہ فریقین کے درمیان حتمی معاہدے کے مسودے کی تدوین عمل میں آئے ۔ صدر روحانی نے عراق کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اور اس بارے میں کہ کیا ایران کا داعش دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے لئے کوئی خاص پروگرام ہے اور کیا ایران امریکہ کے مشترکہ پروگرام میں شریک ہوگا کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ علاقے کا اہم مسئلہ ہے انہوں نے عراق کے حالیہ انتخابات کے انعقاد اور اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ انتخابات میں ناکامی کی تلافی دہشت گردی سے نہيں کی جاسکتی کہا کہ ایران عراق کا دوست اور ہمسایہ ملک ہونے کی حیثیت سے اس ملک کی حکومت کی جانب سے مدد کی درخواست کی صورت میں بین الاقوامی قوانین کے دائرے ميں عراق کو امداد پہنچانے کے لئے آمادہ ہے ۔
.......
/169